نقاش علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ کتاب مجید میں اللہ عزوجل نے کسی نبی کی رسالت کی قسم نہیں یاد فرمائی سوائے حضور ﷺ کے، اس میں حضور ﷺ کی بڑی تعظیم و ترقی ہے، یہ تکریم اس تقدیر (تاویل) کی بنا پر ہے جس نے ” یٰسٓ“ سے ’’ یَاسَیِّدُ ‘‘ مراد لیا ہے ۔
اور حضور ﷺ نے اشاد فرمایا ہے: اَنَا سَيِّدُ وُلِدَ اٰدَمَ وَلَا فَخَرَ (صحیح مسلم ج۴ ص۱۷۸۲)
واقعتا ًمیں اولاد ِآدم کا سردار ہوں، یہ میں فخر سے نہیں کہتا۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ(1) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ(2)﴾
مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔( البلد:ا،۲)
بعض نے کہا ہے کہ آپ ﷺ کے باہر تشریف لے جانے کے بعد میں اس شہر کی قسم نہیں فرماتا ہوں ، اس کو مکی علیہ الرحمہ نے بیان کیا۔
بعض کہتے ہیں کہ لَاۤ زائد ہے ، یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی کہ آپ ﷺ اس میں رونق افروز ہیں ، آپ ﷺ کے لیے حلال ہے جو کچھ آپ ﷺ نے اس میں کیا ہے، ان سب کے نزدیک البلد سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#AshShifa
#ProphetMuhammadﷺ
#ShanEMustafa
#MakkahMukarramah
#Makkah
#QaziIyaz
#IslamicKnowledge
#QuranMiracle
#SeeratunNabi
#ThinkGoodGreen